In Loving Memory
Ata-Ul-Kareem Shahid- مولانا عطاء الکریم شاہد

Ata-Ul-Kareem Shahid- مولانا عطاء الکریم شاہد

July 24, 1937 – May 17, 2015
46 views

میرے والد صاحب مولانا عطاءالکریم شاہد کی پیدائش 24 جولائی 1937ء میں ہوئی۔ آپ نے 78 سال کی عمر میں لندن میں وفات پائی اور بروک ووڈ قطعہ موصیان میں مدفون ہیں۔

آپ بہت متوکل اور پیار کرنے والا وجود تھے، ہمیشہ رحمی رشتوں کو نبھانے والے اور اپنے اہل وعیال سے شفقت کا سلوک کرنے والے تھے۔ اپنی والدہ سے بے پناہ محبت تھی اور ان کی وفات پر بے حد غم کیا تاہم کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ بڑے بھائی کو غمزدہ دیکھ کر چھوٹے بہن بھائی کی ہمت پست نہ ہو، میری والدہ نے بتایا کہ اپنی امی جان کی وفات کے کچھ دنوں بعد آپ کو گھر نہ پاکر جب فلیٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو آپ بہت غمزدہ حالت میں سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، گھر سے باہر اس لئے نکل گئے کہ کوئی انہیں اس حالت میں دیکھ نہ لے۔

آپ کو دعوت الی اللہ کا بےحد شوق تھا تمام عمر کسی طرح بھی پیغام پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ سن 2000ء کے بعد صحت کی خرابی کی وجہ سے ریٹائرمنٹ لے کر مستقل لندن منتقل ہوگئے۔ یہاں بھی خرابی صحت کے باوجود ہر آنے جانے والے سے کسی نہ کسی بہانے سے سلام دعا کا موقع پیدا کرکے انہیں اسلام کا پیغام پہنچانے کی سعی کرتے رہتے، جب کبھی بھی ڈاکٹرز اور ہسپتال کے سٹاف ان کی دیکھ بھال کے لئے آتے تو ان سے بھی کسی نہ کسی طرح تعلق پیدا کرکے انہیں جماعت سے متعارف کرواتے اور ہسپتال کی اپوائنٹمنٹس پر بھی اپنے ساتھ جماعتی کتب اور رسائل ہر وقت ساتھ رکھتے۔ گھر سے قریبی چرچ سے بھی تعلق بنا کر رکھا ہوا تھا اور اکثر ان کی میٹنگز میں گھر سے پکوڑے یا اور دیگر لوازمات بنوا کر لے جاتے جس سے غیر از جماعت افراد سے ذاتی تعلق بنا لیتے جو بعد میں انہیں جماعتی فنکشنز پر دعوت دینے کے لئے بہت کار آمد ثابت ہوتا۔

خلفائے وقت سے بہت عقیدت اور محبت کا تعلق رکھتے تھے اور مستقل خطوط کے ذریعے رابطے میں رہتے، 2009ء میں بیت الفضل لندن کے سامنے گر گئے جس کے نتیجے میں ٹانگ فریکچر ہوگئی، جب انہیں ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے کر جارہے تھے تو قریب کھڑے ایک پہرے دار کو بلا کر کہا کہ حضور کو اطلاع کردینا۔ ہر خوشی اور غمی کے موقعوں پر سب سے پہلے خلیفہ وقت اور ان کی دعاؤں کا خیال آتا تھا، زندگی کے آخری سالوں میں بیماری کی وجہ سے گھر پر ہی رہتے تھے مگر جب بھی حضور دوروں پر تشریف لے جاتے تو ایک عجیب سی بے چینی کا شکار ہو جاتے اور بار بار استفسار کرتے کہ حضور کب واپس آئیں گے گویا اس بات کا خدشہ رہتا تھا کہ اگر خدانخواستہ حضور کی غیر موجودگی میں بلاوا آگیا تو کہیں ان کی دعاؤں اور جنازہ پڑھائے جانے کی سعادت سے محروم نہ رہ جائیں، حضرت صاحب نے ان کی وفات پر امام عطاء المجیب راشد صاحب کو آپ کے بارے میں لکھا "ہنس مکھ اور قانع انسان تھے، خلافت سے بہت اخلاص اور وفا کا تعلق تھا جو میں اپنے ساتھ ان کے ہر لفظ اور ہر حرکت و سکون میں دیکھا"

اپنے بہن بھائیوں خصوصاً چھوٹی بہنوں سے بہت شفقت اور محبت کا سلوک تھا، ان کے گھر آنے پر آپ کی آنکھوں میں ایک چمک آجایا کرتی جس کا مشاہدہ بہت سے لوگوں نے کیا، اپنی جب تک پاکستان میں مرکز میں رہے وہاں ایک چھوٹی ہمشیرہ کا ان کی بیماری اور معذوری میں بہت خیال رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ جب وہاں سے لندن منتقل ہوگئے تو ربوہ میں اپنے پلاٹ پر ان کے لئے تمام سہولیات سے آراستہ ایک گھر تعمیر کروایا مگر بوجوہ ان کی ہمشیرہ وہاں منتقل نہ ہو سکیں جس پر اکثر ان کا ذکر آنے پر آنکھیں بھیگ جاتیں اور کہا کرتے کہ خدا اس کے بدلے اگر دوسرے جہان میں مجھے ایک گھر عطا کردے تو میرے لئے یہی بہت ہے۔

اپنے بچوں کی اور غیروں کی بھی تکلیفوں پر بے چین ہو جاتے، دعا کے ساتھ ساتھ باربار پتہ بھی کرتے رہتے کہ تکلیف یا پریشانی دور ہوئی ہے یا نہیں، کسی نے بتایا کہ ایک دفعہ مربی صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہیں اپنی کسی پریشانی کا بتایا کہ دعا کریں، بعد میں اللہ کے فضل سے وہ مسئلہ حل بھی ہوگیا تو کچھ عرصے کے بعد فون آیا اور مجھ سے میری پریشانی کے متعلق استفسار کیا جس پر میں نے بتایا کہ وہ معاملہ تو اللہ کے فضل سے ٹھیک ہوگیا تھا جس پر آپ نے بہت خوشی کا اظہار کیا لیکن وہ دوست کہنے لگے کہ میں بہت شرمندہ ہوا کہ میں تو دعا کا کہہ کر بھول گیا مگر مربی صاحب نے میری تکلیف یاد رکھی اور میرے لئے دعا کرتے رہے۔

تمام عمر قناعت اور توکل کے ساتھ بسر کی مشکل سے مشکل حالات میں کبھی ان کو مایوسی کی حالت میں نہیں دیکھا، وفات سے کچھ دن قبل ہسپتال میں نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے جب ان کے پوتے (میرے بڑے بیٹے نوشیرواں) نے اسی کمرے میں موجود اپنی دادی کو اپنی پریشانی بتائی تو اچانک والد صاحب نے میرے بیٹے سے کہا کہ فکر نہ کرو اللہ فضل کرے گا، شاید ان کے یہ ہوش و بے ہوشی کی حالت میں آخری الفاظ تھے مگر خدا تعالٰی پر یقین اور توکل کا یہ عالم تھا کہ ایسی حالت میں بھی اپنے بچوں اور اہل و عیال کو خدا تعالٰی سے ہر امید رکھنے کا درس اور حوصلہ دے گئے، اور عجیب خدا کی شان کہ اپنے اس متوکل بندے کی بات کی لاج رکھتے ہوئے چند ہی دنوں میں ان کے پوتے کی مشکل بھی دور ہوگئی۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔)

Sponsored

Memory Wall

Words and memories shared by our community.

Be the first to leave a tribute.

Leave a tribute

Tip: you can type directly, or attach a PDF — the document will be displayed inside the tribute. Urdu/Arabic text aligns right automatically.

Up to 5 files total. Images max 10 MB, videos max 50 MB.