All Memorials

Those we remember

Raja Nasrullah Khan پروفیسر راجہ نصراللہ خان ۔

Raja Nasrullah Khan پروفیسر راجہ نصراللہ خان ۔

October 14, 1940 – May 29, 2026

پاکستان سے آمدہ اطلاع کے مطابق نامور قلمکار محقق ادیب اور تاریخ ساز مضامین سپرد قلم کرنے والے راجہ نصراللہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ انا للہ وانا الہہ راجعون ۔ راجہ صاحب جب سعودی عرب سے دیار وطن کو واپس لوٹے تو میں دیار غیر کو کوچ کرنے کی تیاری کر رہا تھا ۔ اس خاندان سے جس کا ہر فرد ملنسار ، مہمان نواز اور چھوٹے بڑے ، غریب امیر کو ایک جیسی عزت دینے میں لا ثانی کردار کا حامل ہے میرا رابطہ راجہ نصراللہ صاحب کے چھوٹے بھائی راجہ ناصر احمد کا نویں جماعت میں کلاس فیلو بننے پر ہوا ۔ یہ غالبا 1966 کی بات ہے ۔ اس بندھن کی بدولت میں نے ڈلوال ، دولمیال ، کلر کہار ، چوا سیدن شاہ کی سیر بھی کی ۔ کلر کہار اور چوا سیدن شاہ کے درمیان ایک سڑک تھی ۔ ڈلوال سڑک کے ایک طرف اور دوالمیال دوسری طرف تھا ۔ جمعہ کی ادائیگی کے لئے ڈلوال سے دوالمیال کا پیدل سفر ابھی کل کی بات لگتی ہے ۔ حضرت قاضی ملک عبدالرحمان صاحب کا خطبہ جمعہ اور پر شفقت ملاقات ۔ میجر آفتاب صاحب کی پر لطف گفتگو اور ہنسی اس سفر ڈلوال کی انمول یادوں میں شامل ہے ۔ سر شام خنک فضاء میں راجہ بیرم خان صاحب کی علاقہ کی تاریخ ساز گفتگو نے مجھ سے اجنبی ہونے کا تاثر چھین لیا ۔ راجہ عطاء اللہ خان صاحب جنگلوں کے سر قلم کرنے سے فرصت ملنے پر ربوہ اتے تو گول کمرہ میں لگنے والی مجلس میں ان کے پدرانہ شفقت بھرے رویہ سے مجھے بھی عزیز من ہونے کا احساس ملتا ۔ جیسا کہ میں نے کہا راجہ نصراللہ خان کی ربوہ آمد اور میری ربوہ سے روانگی تو چل میں آیا کے ماحول میں ہوئی ۔ ہمارے درمیان اس طور تفصیلی گفتگو تو نہ ہو سکی جو ان کے برادران اکبر کا خاصا رہا ۔ البتہ جب تک راجہ ناصر پاکستان میں رہے ان کی وساطت سے مجھے راجہ نصر اللہ خان سے نیاز حاصل رہا ۔ لیکن اس سے بڑھ کر ان کی قلمی خدمات نے میرے دل کو موہ لیا ۔ لوگ اپنے اور اپنے خاندان پر مضامین لکھتے ہیں ۔ راجہ نصراللہُ خان کا قلم ان قومی ہیروز کے لئے الفاظ کے موتی پروتا رہا جن کی خدمات سے عقیدہ کے اختلاف کی بناء پر آنکھیں چرائی گئیں ۔ راجہ صاحب مرحوم کی تالیف “ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں جماعت احمدیہ کا کردار “ ایک معرکہتہ الآرا ءُ تصنیف ہے ۔ ان کی محنت نے مستقبل کے مورخ کا کام آسان کر دیا ۔ ہر بشر نے خاک میں مل جانا ہے لیکن قلمکار اور مورخ کی محنت اس کے نام کو زندہ رکھتی ہے ۔ راجہ نصراللہ خان بھی انہی میں سے تھے ۔ آج پوری دنیا میں احمدی ادب کے قدر دان سلطان القلم کی فوج کے اس سپاہی کے بچھڑ جانے پر غم زدہ ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ ان کی خدمت کو قبول کرے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا ہو آمین ۔ والسلام سوگوار۔ عرفان احمد خان جرمنی

View memorial →
Ch. Kareem u Din- چوہدری کریم الدین

Ch. Kareem u Din- چوہدری کریم الدین

April 28, 2026

چوہدری کریم الدین جنہیں پیار سے گھر والے " پُو " اور محلے کے نوجوان "پوصاحب" پکارا کرتے تھے۔ ہم نے بھی انکو تمام عمر پو صاحب ہی کہا کہ اس نام میں ان سے بہت اپنائیت اور محبت محسوس ہوتی تھی۔ پو صاحب بلاشبہ ایک عظیم انسان تھے۔ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ ہم سب اہل محلہ پر انکا بہت بڑا احسان ہے کہ اس عمر میں، جس میں فضولیات میں وقت ضائع کرنے کی طرف زیادہ رحجان ہوتا ہے، اس عمر میں ہم سب انکے زیرِ سایہ اور نگرانی میں بڑے ہوئے، انکو بلا استثناء ہر بچے بڑے سے بہت پیار تھا، ہر ایک سے ذاتی تعلق رکھتے تھے مگر کسی کو بھی غلط حرکت ، گفتگو میں پاتے تو فوراً روک دیتے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہماری تربیت میں گھر والوں سے زیادہ پو صاحب کا حصہ ہے۔ انکے پاس خواہ کوئی جماعتی عہدہ ہوتا تھا یا نہیں مگر وہ ہم سب کے نگران تھے، استاد تھے اور بڑے بھائی تھے۔وہ جہاں بھی ہوتے ہم سب انکے اردگرد ہی جمع رہتے تھے۔ جب ہم بڑے ہوئے تو ایک ایک کرکے سب پاکستان سے باہر جانے لگ گئے مگر پوصاحب ہمیشہ سچے پاکستانی ہی رہے کبھی پاکستان کو خیر آباد کہنے کا خیال نہیں آیا۔ اگر کسی موقعہ پر کوئی دوست ایسی بات کہہ دیتا جو پاکستان کے خلاف ہوتی تو سب سے زیادہ دکھ پوصاحب کو ہوتا۔ فوراً تردید کرتے یا دکھ کا اظہار کرتے۔ پاکستان سے باہر جانے کے بعد اکثر دوستوں کا دوری کی وجہ ان سے رابطہ کم ہوگیا تھا، مگر انکی اچانک وفات نے سب کو واپس انکی یادوں کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ سب دوست ایک دوسرے کو فون کرکے اپنے اپنے صدمے کا حال سنا رہے ہیں ایک دوسرے کو تسلی دے رہے ہیں ۔انکے اتنی جلدی چلے جانے کا ایسا دکھ جو باقی ساری زندگی ختم نہیں ہوگا۔ اس پلیٹ فارم کو جلد مکمل کرنے کا باعث بھی پو صاحب ہیں۔ کئی سال سے خواہش تھی کہ کوئی ایسا مرکز ہو جہاں لوگ اپنے اپنے پیاروں سے وابستہ یادوں جو جمع کرسکیں۔ پو صاحب کی وفات نے مجبور کردیا کہ اب یہ کام دنوں میں مکمل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے پو صاحب کو غریقِ رحمت کرے۔ انکے تمام لواحقین اور چاہنے والوں کو صبر عطا کرے۔ آمین از عدنان محمود

View memorial →
Bushra Daud Nasir بشریٰ داود ناصر

Bushra Daud Nasir بشریٰ داود ناصر

May 28, 2025

IN REMEMBRANCE OF - APPA BUSHRA (Verily we belong to Allah, and to Him we shall return) Today, 28th day of May, is the first Anniversary of my talented, gorgeous and loving Cousin Sister-Appa Bushra who on this day went to her final abode on the call of her benefactor. She passed her life in meticulous way and kept her cordial relations with all members of family. Whenever, I had chance to met her, she left an indelible footprints of her warm and loving gestures. Her smiling face always hovers in our memories. Appa Bushra was a progressive personality and was first female member of our family who went East Pakistan (Now Bangladesh) to upgrade her academic expertise and qualifications in the early seventies. A loving personality will always remain in the hearts and minds of all of her nears and dears. Pray that Allah Subhan Ta'ala rest her soul in Janat-ul-Firdaus and shower his blessings on the departed soul. مٹل ایوان سحر مرقد فروزاں ھو تیرا نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ھو تیرا , آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے Zafar Iqbal FCA, Lahore May 28,2026

View memorial →
Sultan Mahmood Anwar- مولانا سلطان محمود انور

Sultan Mahmood Anwar- مولانا سلطان محمود انور

March 11, 1932 – January 11, 2021

محترم مولانا سلطان محمود انور صاحب کا شمار ان فدائی واقفین میں ہوتا ہے جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا جماعت کی خدمت اور امامِ وقت سے محبت تھا۔ مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب 11 مارچ 1932 کو کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری محمد دین اور والدہ کا نام رحمت بی بی تھا۔ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی پیدائش سے کچھ سال قبل ہی ان کے والد چوہدری محمد دین صاحب سلسلہ میں شامل ہوئےاور پھر خدا کا ایسا فضل ہوا کہ کہ اکلوتا بیٹا خدمت دین کے لئے وقف ہوگیا الحمد للہ! مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب کی ابتدائی تعلیم کھاریاں میں ہی ہوئی۔ نویں جماعت کے بعد ان کی ضد اور شوق کی وجہ سے والدین نے ان کو زندگی وقف کرکے قادیان جانے کی اجازت دے دی۔ وہاں جامعہ میں داخل ہوگئے۔ دو سال کے بعد انڈیا پاکستان الگ ہوگئے تو پہلے لاہور اور پھر جامعہ احمدیہ چنیوٹ اور پھر احمد نگر شفٹ ہوگئے۔ وہیں سے 1952 میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور 1956 میں جامعہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ مکرم مولانا سلطان محمود انورصاحب کی پہلی تقرری بطور مربی سلسلہ گجرات میں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بطور مربی خدمات انجام دیں۔ 1974 سے 1978 تک گھانا افریقہ میں کام کیا۔ 1982 سے 1983 تک سیکریٹری مجلس کارپرداز رہے۔ 1983 میں ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے اور 1998 تک پندرہ سال کا عرصہ اسی ذمہ داری پر کام کرنے کی توفیق پائی۔ پھر اس کے بعد ناظر خدمت درویشاں اور ناظر رشتہ ناطہ بھی رہے۔ 2018 میں بیماری کی وجہ سے 86 سال کی عمر میں ریٹائر ہوگئے۔ آپ کا جماعتی خدمات کا عرصہ 61 سال پر محیط ہے۔ مولانا سلطان محمود انور صاحب کو خدا تعالیٰ نے بہت خوبیوں اور غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ آپ کا انداز خطابت ایسا تھا کہ لوگ بہت شوق سے آپ کی تقاریر سننے کے لئے آتے تھے۔ ہمیشہ خوشگوار مزاج، بہترین حس مزاح، اور محبت اور عاجزی ایسی کہ ہر ملنے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ انہوں نے غیر احمدی احباب کو بے شمار تبلیغی مناظرے اور سوال و جواب کے مواقع فراہم کئے۔ ان کے انداز گفتگو، خطابت، اور علم سے مخالفین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ آپ کے کم و بیش 200 کے قریب خطابات آڈیو، ویڈیو، یا تحریری طور پر موجود ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو ریکارڈ نہیں ہوسکے یا ضائع ہو گئے۔ مولانا سلطان محمود انور صاحب کی زندگی کا ایک نمایاں وصف ان کی خلافت سے بے پناہ محبت تھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خلافت کے جانثاروں میں سے تھے۔ ہر بات میں امامِ وقت کا مشورہ اور کامل اطاعت کا نمونہ تھے۔ یہ خلافت سے والہانہ عقیدت تھی کہ اپنے سے اوپر افسران کی بھی اسی طرح اطاعت کرتے کہ وہ امامِ وقت کے مقرر کردہ تھے۔ مولانا صاحب کو مربیان اور دفتر کے کارکن ایک شفیق استاد اور محبت کرنے والے بزرگ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سزا دینے سے گریز کرتے تھے اور محبت سے غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہے امیر اور صدر جماعت سے ان کا ہمیشہ تعاون کا سلوک رہا۔ گھر میں سلطان محمود انور صاحب ایک محبت کرنے والے شوہراور شفیق باپ تھے۔ بچوں کی تربیت کا خیال رہتا تھا اسلئے با وجود انتہائی مصروفیت کے بچوں کی نمازوں او تلاوت قرآن کریم پر بھی نظر رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ امامِ وقت کو خطوط لکھنے اور دعا کی درخواست کرنے کی بھی ہر وقت تاکید کرتے رہتے تھے۔ آپ نے اپنے چھوٹے بڑے ہر رشتہ دار اور سسرالی رشتہ داروں سے بھی ہمیشہ محبت کا رشتہ بنا کر رکھا۔ بہت مہمان نواز تھے۔ گھر میں اکثر لوگ اپنے مسائل لے کر آجاتے تھے، دن رات ہو یا کھانے یا آرام کا وقت ہو، اپنے ذاتی کاموں اور آرام کو نظر انداز کر کے ہر آنیوالے کی بات کو سنتے اور مدد کی کوشش کرتے تھے۔ مولانا صاحب ایک دعا گو اور عبادت گزار انسان تھے۔ با جماعت نماز کو ہی اصل نماز سمجھتے تھے۔ جب سفر پر ہوتے یا بیت الذکر نہ پہنچ سکتے تو گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام کرواتے۔ گھر میں جب نوافل ادا کرتے تو ایسے محو ہوجاتے تھے کہ ارد گرد کے کسی شور شرابے کا ان کو احساس نہ ہوتا اسلئے کبھی کسی سے یہ شکایت نہیں کی کہ شور کی وجہ سے نماز خراب ہوگئی تھی۔ مولانا سلطان محمود انور صاحب کی وفات 11 جنوری 2021 کو 88 سال کی عمر میں ربوہ میں ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون آپ کی وفات پر حضورِ انور نے خطبہ جمعہ 22 جنوری 2021 میں آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا، "1974 سے 1978 تک گھانا میں رہے، جب میں بھی وہاں تھا اور میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بے نفس ہو کے انہوں نے وہاں خدمت کی۔۔۔۔۔۔ان کو تبلیغ کرنے کا ملکہ، لوگوں سے بات چیت کا ملکہ، تقریر کا ملکہ بھی بہت تھا۔ ان کے متعدد ایسے واقعات ہیں کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اور علماء سے ان کی اختلافی مسائل پر گفتگو ہوتی اور بڑے ٹھوس اور علمی جواب دیتے۔ بڑے اچھے مقرر تھے جیسا کہ میں نے کہا سامعین کو سننے والوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ مربیان جو ان کے ساتھ کام کرنے والے ہیں وہ بھی یہی لکھتے ہیں کہ ہمیں ساتھ لے کر چلنے والےتھے۔ ہر ایک نے یہی لکھا کہ انتہائی شفقت کا سلوک فرماتے تھے اور خود بھی تہجد اور عبادت کرنے والے اور لوگوں کو، مربیان کو بھی خاص طور پر تہجد اور عبادت کی تلقین کیا کرتے تھے۔ ان کا خلافت سے وفا اور اطاعت کا ایک غیر معمولی معیار تھا۔۔۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے " (آمین)

View memorial →
Ata-Ul-Kareem Shahid- مولانا عطاء الکریم شاہد

Ata-Ul-Kareem Shahid- مولانا عطاء الکریم شاہد

July 24, 1937 – May 17, 2015

میرے والد صاحب مولانا عطاءالکریم شاہد کی پیدائش 24 جولائی 1937ء میں ہوئی۔ آپ نے 78 سال کی عمر میں لندن میں وفات پائی اور بروک ووڈ قطعہ موصیان میں مدفون ہیں۔ آپ بہت متوکل اور پیار کرنے والا وجود تھے، ہمیشہ رحمی رشتوں کو نبھانے والے اور اپنے اہل وعیال سے شفقت کا سلوک کرنے والے تھے۔ اپنی والدہ سے بے پناہ محبت تھی اور ان کی وفات پر بے حد غم کیا تاہم کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ بڑے بھائی کو غمزدہ دیکھ کر چھوٹے بہن بھائی کی ہمت پست نہ ہو، میری والدہ نے بتایا کہ اپنی امی جان کی وفات کے کچھ دنوں بعد آپ کو گھر نہ پاکر جب فلیٹ سے باہر نکل کر دیکھا تو آپ بہت غمزدہ حالت میں سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، گھر سے باہر اس لئے نکل گئے کہ کوئی انہیں اس حالت میں دیکھ نہ لے۔ آپ کو دعوت الی اللہ کا بےحد شوق تھا تمام عمر کسی طرح بھی پیغام پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ سن 2000ء کے بعد صحت کی خرابی کی وجہ سے ریٹائرمنٹ لے کر مستقل لندن منتقل ہوگئے۔ یہاں بھی خرابی صحت کے باوجود ہر آنے جانے والے سے کسی نہ کسی بہانے سے سلام دعا کا موقع پیدا کرکے انہیں اسلام کا پیغام پہنچانے کی سعی کرتے رہتے، جب کبھی بھی ڈاکٹرز اور ہسپتال کے سٹاف ان کی دیکھ بھال کے لئے آتے تو ان سے بھی کسی نہ کسی طرح تعلق پیدا کرکے انہیں جماعت سے متعارف کرواتے اور ہسپتال کی اپوائنٹمنٹس پر بھی اپنے ساتھ جماعتی کتب اور رسائل ہر وقت ساتھ رکھتے۔ گھر سے قریبی چرچ سے بھی تعلق بنا کر رکھا ہوا تھا اور اکثر ان کی میٹنگز میں گھر سے پکوڑے یا اور دیگر لوازمات بنوا کر لے جاتے جس سے غیر از جماعت افراد سے ذاتی تعلق بنا لیتے جو بعد میں انہیں جماعتی فنکشنز پر دعوت دینے کے لئے بہت کار آمد ثابت ہوتا۔ خلفائے وقت سے بہت عقیدت اور محبت کا تعلق رکھتے تھے اور مستقل خطوط کے ذریعے رابطے میں رہتے، 2009ء میں بیت الفضل لندن کے سامنے گر گئے جس کے نتیجے میں ٹانگ فریکچر ہوگئی، جب انہیں ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے کر جارہے تھے تو قریب کھڑے ایک پہرے دار کو بلا کر کہا کہ حضور کو اطلاع کردینا۔ ہر خوشی اور غمی کے موقعوں پر سب سے پہلے خلیفہ وقت اور ان کی دعاؤں کا خیال آتا تھا، زندگی کے آخری سالوں میں بیماری کی وجہ سے گھر پر ہی رہتے تھے مگر جب بھی حضور دوروں پر تشریف لے جاتے تو ایک عجیب سی بے چینی کا شکار ہو جاتے اور بار بار استفسار کرتے کہ حضور کب واپس آئیں گے گویا اس بات کا خدشہ رہتا تھا کہ اگر خدانخواستہ حضور کی غیر موجودگی میں بلاوا آگیا تو کہیں ان کی دعاؤں اور جنازہ پڑھائے جانے کی سعادت سے محروم نہ رہ جائیں، حضرت صاحب نے ان کی وفات پر امام عطاء المجیب راشد صاحب کو آپ کے بارے میں لکھا "ہنس مکھ اور قانع انسان تھے، خلافت سے بہت اخلاص اور وفا کا تعلق تھا جو میں اپنے ساتھ ان کے ہر لفظ اور ہر حرکت و سکون میں دیکھا" اپنے بہن بھائیوں خصوصاً چھوٹی بہنوں سے بہت شفقت اور محبت کا سلوک تھا، ان کے گھر آنے پر آپ کی آنکھوں میں ایک چمک آجایا کرتی جس کا مشاہدہ بہت سے لوگوں نے کیا، اپنی جب تک پاکستان میں مرکز میں رہے وہاں ایک چھوٹی ہمشیرہ کا ان کی بیماری اور معذوری میں بہت خیال رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ جب وہاں سے لندن منتقل ہوگئے تو ربوہ میں اپنے پلاٹ پر ان کے لئے تمام سہولیات سے آراستہ ایک گھر تعمیر کروایا مگر بوجوہ ان کی ہمشیرہ وہاں منتقل نہ ہو سکیں جس پر اکثر ان کا ذکر آنے پر آنکھیں بھیگ جاتیں اور کہا کرتے کہ خدا اس کے بدلے اگر دوسرے جہان میں مجھے ایک گھر عطا کردے تو میرے لئے یہی بہت ہے۔ اپنے بچوں کی اور غیروں کی بھی تکلیفوں پر بے چین ہو جاتے، دعا کے ساتھ ساتھ باربار پتہ بھی کرتے رہتے کہ تکلیف یا پریشانی دور ہوئی ہے یا نہیں، کسی نے بتایا کہ ایک دفعہ مربی صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہیں اپنی کسی پریشانی کا بتایا کہ دعا کریں، بعد میں اللہ کے فضل سے وہ مسئلہ حل بھی ہوگیا تو کچھ عرصے کے بعد فون آیا اور مجھ سے میری پریشانی کے متعلق استفسار کیا جس پر میں نے بتایا کہ وہ معاملہ تو اللہ کے فضل سے ٹھیک ہوگیا تھا جس پر آپ نے بہت خوشی کا اظہار کیا لیکن وہ دوست کہنے لگے کہ میں بہت شرمندہ ہوا کہ میں تو دعا کا کہہ کر بھول گیا مگر مربی صاحب نے میری تکلیف یاد رکھی اور میرے لئے دعا کرتے رہے۔ تمام عمر قناعت اور توکل کے ساتھ بسر کی مشکل سے مشکل حالات میں کبھی ان کو مایوسی کی حالت میں نہیں دیکھا، وفات سے کچھ دن قبل ہسپتال میں نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے جب ان کے پوتے (میرے بڑے بیٹے نوشیرواں) نے اسی کمرے میں موجود اپنی دادی کو اپنی پریشانی بتائی تو اچانک والد صاحب نے میرے بیٹے سے کہا کہ فکر نہ کرو اللہ فضل کرے گا، شاید ان کے یہ ہوش و بے ہوشی کی حالت میں آخری الفاظ تھے مگر خدا تعالٰی پر یقین اور توکل کا یہ عالم تھا کہ ایسی حالت میں بھی اپنے بچوں اور اہل و عیال کو خدا تعالٰی سے ہر امید رکھنے کا درس اور حوصلہ دے گئے، اور عجیب خدا کی شان کہ اپنے اس متوکل بندے کی بات کی لاج رکھتے ہوئے چند ہی دنوں میں ان کے پوتے کی مشکل بھی دور ہوگئی۔ (جاری ہے۔۔۔۔۔)

View memorial →
Barkaat Ahmad Kalid- محترم برکات احمد خالد

Barkaat Ahmad Kalid- محترم برکات احمد خالد

November 3, 1946 – June 17, 2014

حالاتِ زندگی جلد شائع کردیئے جائیں گے۔

View memorial →
Obaidullah Aleem- عبیدالله علیم

Obaidullah Aleem- عبیدالله علیم

June 12, 1939 – May 18, 1998

عبید اللہ علیم 1939 میں بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا اور 1967 تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروڈیوسر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ 1974 میں، ان کی شاعری کی پہلی کتاب چاند چھیڑا ستارہ انکھیں شائع ہوئی۔ وہ کراچی اسٹیشن پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن میں سینئر پروڈیوسر تھے جب تک کہ 1978 میں ان کے خلاف ایک حکم نامے کے بعد انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا گیا۔ ان کی شاعری کی کتاب کو پاکستان میں ادب کا سب سے بڑا ایوارڈ ملا، آدم جی پرائز ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ویراں سرائے کا دیا 1986 میں شائع ہوا۔ مارچ 1998 میں انہیں پنجاب میں دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ کچھ دن پنجاب کے ہسپتال میں داخل رہے۔ اس کے بعد وہ کراچی میں ناظم آباد میں اپنی رہائش گاہ پر واپس آئے۔ 18 مئی 1998 کو ایک اور دل کا دورہ پڑنے سے حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ کتابیات چاند چھہرا ستارہ انکھیں، (1974) ویران سرائے کا دیا، (1986) یہ زندگی ہائے ہماری، (منتخب اشعار) میں کھلی ہوئی اک سچائی، (مجموعی نثر) چراغ جلتے ہیں: عبید اللہ علیم کی غیر مطبوعہ شاعری، (ریحان قیوم کی طرف سے فیکسمائل ایڈیشن، 2014)

View memorial →
Dr. Mohammad Abdus Salam- ڈاکٹر محمد عبدالسلام

Dr. Mohammad Abdus Salam- ڈاکٹر محمد عبدالسلام

January 29, 1926 – November 21, 1996

ڈاکٹر محمد عبدالسلام (پیدائش 29 جنوری 1926 - 21 نومبر 1996) ایک پاکستانی تھیوریٹیکل فزیکسٹ اور نوبل انعام یافتہ تھے۔ انہوں نے اسٹیون وینبرگ اور شیلڈن گلاسو کے ساتھ طبیعیات کا 1979 کا نوبل انعام "ابتدائی ذرات کے درمیان متحد کمزور اور برقی مقناطیسی تعامل کے نظریہ میں ان کی شراکت کے لیے، بشمول دیگر باتوں کے ساتھ، کمزور غیر جانبدار کرنٹ کی پیشین گوئی" کے ساتھ بانٹا۔ وہ نوبل انعام جیتنے والے پہلے پاکستانی، پہلے مسلمان سائنسدان، اور کسی بھی مسلم ملک سے (مصر کے انور سادات کے بعد) دوسرے شخص تھے۔ ڈاکٹر سلام 1960 سے 1974 تک پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے سائنسی مشیر رہے، جہاں سے انہوں نے ملک کے سائنس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم اور بااثر کردار ادا کیا۔ سلام نے پاکستان میں نظریاتی اور پارٹیکل فزکس میں متعدد ترقیوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ وہ اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے بانی ڈائریکٹر تھے، اور تھیوریٹیکل فزکس گروپ (ٹی پی جی) کے قیام کے ذمہ دار تھے، اس کے لیے انہیں اس پروگرام کے "سائنسی باپ" کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سلام کی نمایاں کامیابیوں میں پتی سلام ماڈل، ایک گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری جو انہوں نے جوگیش پتی کے ساتھ 1974 میں تجویز کی تھی، مقناطیسی فوٹون، ویکٹر میسن، سپر سمیٹری پر کام اور سب سے اہم الیکٹرویک تھیوری، جس کے لیے انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ سلام نے کوانٹم فیلڈ تھیوری اور امپیریل کالج لندن میں ریاضی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے طالب علم ریاض الدین کے ساتھ سلام نے نیوٹرینو، نیوٹران ستاروں اور بلیک ہولز پر جدید نظریہ کے ساتھ ساتھ کوانٹم میکینکس اور کوانٹم فیلڈ تھیوری کو جدید بنانے کے کام میں اہم شراکت کی۔ ایک استاد اور سائنس کے فروغ دینے والے کے طور پر، سلام کو پاکستان میں ریاضی اور نظریاتی طبیعیات کے بانی اور سائنسی باپ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب وہ صدر کے چیف سائنٹیفک ایڈوائزر رہے۔ سلام نے عالمی فزکس کمیونٹی میں پاکستانی فزکس کے عروج میں بہت زیادہ تعاون کیا۔ اپنی موت سے کچھ دیر پہلے تک، سلام نے طبیعیات میں اپنا حصہ ڈالنا، اور تیسری دنیا کے ممالک میں سائنس کی ترقی کے لیے وکالت جاری رکھی۔

View memorial →
Hazrat Sheikh Masood u Rehman- حضرت شیخ مسعود الرحمن

Hazrat Sheikh Masood u Rehman- حضرت شیخ مسعود الرحمن

January 1, 1892 – January 1, 1994

حضرت شیخ مسعود الرحمن کپورتھلوی رئیسِ ریاست کپورتھلہ

View memorial →
Tabindah.org

Tabindah.org

زندہ تابندہ لوگ

View memorial →
Developer

Developer

Testing this site ........

View memorial →