In Loving Memory
Ch. Kareem u Din- چوہدری کریم الدین

Ch. Kareem u Din- چوہدری کریم الدین

April 28, 2026
87 views

چوہدری کریم الدین جنہیں پیار سے گھر والے " پُو " اور محلے کے نوجوان "پوصاحب" پکارا کرتے تھے۔ ہم نے بھی انکو تمام عمر پو صاحب ہی کہا کہ اس نام میں ان سے بہت اپنائیت اور محبت محسوس ہوتی تھی۔

پو صاحب بلاشبہ ایک عظیم انسان تھے۔ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ ہم سب اہل محلہ پر انکا بہت بڑا احسان ہے کہ اس عمر میں، جس میں فضولیات میں وقت ضائع کرنے کی طرف زیادہ رحجان ہوتا ہے، اس عمر میں ہم سب انکے زیرِ سایہ اور نگرانی میں بڑے ہوئے، انکو بلا استثناء ہر بچے بڑے سے بہت پیار تھا، ہر ایک سے ذاتی تعلق رکھتے تھے مگر کسی کو بھی غلط حرکت ، گفتگو میں پاتے تو فوراً روک دیتے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہماری تربیت میں گھر والوں سے زیادہ پو صاحب کا حصہ ہے۔ انکے پاس خواہ کوئی جماعتی عہدہ ہوتا تھا یا نہیں مگر وہ ہم سب کے نگران تھے، استاد تھے اور بڑے بھائی تھے۔وہ جہاں بھی ہوتے ہم سب انکے اردگرد ہی جمع رہتے تھے۔

جب ہم بڑے ہوئے تو ایک ایک کرکے سب پاکستان سے باہر جانے لگ گئے مگر پوصاحب ہمیشہ سچے پاکستانی ہی رہے کبھی پاکستان کو خیر آباد کہنے کا خیال نہیں آیا۔ اگر کسی موقعہ پر کوئی دوست ایسی بات کہہ دیتا جو پاکستان کے خلاف ہوتی تو سب سے زیادہ دکھ پوصاحب کو ہوتا۔ فوراً تردید کرتے یا دکھ کا اظہار کرتے۔

پاکستان سے باہر جانے کے بعد اکثر دوستوں کا دوری کی وجہ ان سے رابطہ کم ہوگیا تھا، مگر انکی اچانک وفات نے سب کو واپس انکی یادوں کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ سب دوست ایک دوسرے کو فون کرکے اپنے اپنے صدمے کا حال سنا رہے ہیں ایک دوسرے کو تسلی دے رہے ہیں ۔انکے اتنی جلدی چلے جانے کا ایسا دکھ جو باقی ساری زندگی ختم نہیں ہوگا۔

اس پلیٹ فارم کو جلد مکمل کرنے کا باعث بھی پو صاحب ہیں۔ کئی سال سے خواہش تھی کہ کوئی ایسا مرکز ہو جہاں لوگ اپنے اپنے پیاروں سے وابستہ یادوں جو جمع کرسکیں۔ پو صاحب کی وفات نے مجبور کردیا کہ اب یہ کام دنوں میں مکمل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے پو صاحب کو غریقِ رحمت کرے۔ انکے تمام لواحقین اور چاہنے والوں کو صبر عطا کرے۔ آمین

از عدنان محمود

Sponsored

Memory Wall

Words and memories shared by our community.

DA
Daud Ahamd داود احمد· Germany . جرمنی
9 days ago
چوہدری کریم الدین صاحب کے نام دل میں اک درد پرانا سا جگا رکھا ہے میں نے ہر زخم کو سینے میں سجا رکھا ہے تیری تصویر مرے مَن سے مٹتی ہی نہیں اپنے اشکوں کو بھی آنکھوں میں چھپا رکھا ہے تیری یادوں کو بھی ہے دل میں بسایا میں نے تیری راہوں میں تو پلکوں کو بچھا رکھا ہے تجھ کو خوشبو کی طرح خود میں سمو کر رکھا تیرے اس پیار کا نغمہ ہر اک کو سنا رکھا ہے تٌو ہی تو میرے خیالوں کا محور بھی رہا ہے میں نے اک پیارا سا گھر دل میں بنا رکھا ہے رہتا ہے مرے دل میں ہر وقت وہی طارق اک دیپ واں پیار کا میں نے یوں جلا رکھا ہے
RA
Raja Ahmad Mahmood· Toronto
22 days ago
Some words about Ch. Kareem u Din sahib.
📄 raja.Mahmood_compressed.pdfOpen in new tab
👍 1· ❤️ 1
ع
عالی· لندن
23 days ago
ہم لوگ جو چوہدری کریم الدین احمد (پُو صاحب) کے عہد میں جوان ہوئے، ان پر پُو صاحب کا ایک ایسا انمٹ نقش ہے جو ہم باوجود کوشش کے مٹا نہیں سکتے۔ میری آپ سے غالباً آخری بار چھتیس سینتیس سال پہلے ملاقات ہوئی تھی مگر یہ یہ شاداب اور مسکراتا ہوا چہرہ کبھی بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا، اپنے بچوں کو ابھی تک ان کے سنائے ہوئے لطیفے مزے لے لے کر سناتے ہیں اور وہ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جس کا ہمارا باپ اکثر ذکر کرتا رہتا ہے اور ہم باوجود کوشش کے انہیں سمجھا نہیں پاتے کہ ایسا کیا ہے جس نے تمام عمر ہمیں اس شخص کا دیوانہ بنائے رکھا۔۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے اُس عہد میں جوان ہونے والے سب دوستوں کی یہی دلی کیفیت ہوگی مگر آج دل اس بات ںسے بیحد بوجھل اور غمزدہ ہے کہ اس شخص کے لئے جو ہمارے دل ودماغ پر ایک نہ مٹنے والا نشان چھوڑ گیا، ماضی کا صیغہ استعمال کرنا پڑرہا ہے اور یقین نہیں آتا کہ اب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ایک بات تو یقینی ہے کہ کریم الدین صاحب ہمارے بھائی، ہمارے استاد اور قدم قدم پر ہمارے راہنما تھے اور آج ہم جو کچھ بھی ہیں اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں آپ کی کاوشوں اور محبتوں کا دخل بھی ہے جس کے لئے ہم ہمیشہ آپ کے لئے دعاگو اور آپ کے احسان مند رہیں گے بچپن میں محلے کی گراؤنڈ میں دو کردار ہمیشہ نمایاں ہوتے تھے پُو صاحب اور مکرم نسیم شاہ صاحب (عرف چومیاں)......پُو صاحب کی دلکش مسکراہٹ، شرارتی چہرہ اور حد سے ذیادہ خود اعتمادی یہاں تک کہ اگر وہ سیاہ کو سفید کہتے تو ہمارا ماننے کو دل کرتا تھا۔ پھر جب ٹیموں کا چناؤ ہوتا تو ہر کسی کی خواہش ہوتی کہ وہ آپ کی ٹیم میں ہو کیونکہ یہ یقین ہوتا تھا کہ آپ کی ٹیم ہی جیتے گی اور اگر بالفرض ہار بھی گئی تو بھی پُو دوسری ٹیم کو جیت کا مزہ نہیں لینے دیں گے اور اس میں نسیم شاہ صاحب کا کردار بہت دلچسپ ہوتا تھا، دونوں کے درمیان نوک جھوک، چھیڑ چھاڑ اور بظاہر لڑائیاں سب کے لئے بے حد دلچسپی کا باعث ہوتی تھیں لیکن کھیل کے میدان میں ہونے والی اونچ نیچ کبھی بھی میدان سے باہر گلی کوچے یا گھروں تک نہیں پہنچی۔۔۔۔۔۔پُو صاحب پر غصہ آنا بھی ایک ناممکن عمل تھا کہ ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی مستقل مسکراہٹ کسی سخت سے سخت دل کو بھی لمحوں میں نرم کردیا کرتی تھی۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ آپ کے درجات بلند فرمائے اور اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ عطا فرمائے آمین بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
👍 1· ❤️ 2
A
Ahmad· Sydney
23 days ago
بقول احمد فراز
❤️ 1
CW
Ch. Waseem u Din· Germany
24 days ago
وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آ گئی احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط وہ اپنے نقشِ پا تو مٹا کر نہیں گیا گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی لگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آ کر نہیں گیا تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد جب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی وہ خار و خس میں آگ لگا کر نہیں گیا شہزادؔ یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سے جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا
👍 1· ❤️ 3
FA
Faheem Ahmad Pim· Wah Cantt.
24 days ago
چوھدری کریم الدین پو صاحب۔زندہ دلان صدر شرقی کے سپوت سب کے دلوں کی ڈھڑکن چھوٹے سے لیکر بڑوں کے دل داداہ بھلائے بھی نہیں بھولتے۔ انکے ساتھ بتائی بہت ھی یادیں ھیں۔محلے والے سب جانتے ھیں کتنی خوبیوں کے مالک تھے۔میں مختصر کر رھا ھوں ۔ھم جب شاہ تاج شوگر مل ملنے گئے بہت محبت سے ملے سب کے بارے میں پوچھا پرانی باتیں بھی کرکے بہت محظوظ ھوے۔میرا بیٹا بھی ساتھ تھا اسکا انٹرویو بھی لیا بہت اچھی باتیں اسکو بتائیں انکے آفس میں کارنر ٹیبل پر فٹ بال رکھا تھا بیٹے سے پوچھا اپ کے ایو تایا سب تمام کھیلیں کھیلتے تھے تم کونسی گیم پسند کرتے ھو بیٹے نے کہا کرکٹ اور فٹ بال۔کہنے لگے ھاکی تو اپ کی خاندانی گیم ھے وہ کیوں نہیں کھیلتے بیٹے نے کہا کھیلتا ھوں لیکن مجھے کرکٹ اور فٹبال پسند ھیں ۔ پو صاحب اپنی چئیر سے اٹھے اور ٹیبل پر پڑا فٹ بال پکڑا اور مجھے کہا پم کیمرہ پکڑ اور بیٹے کو یہ فٹ بال گفٹ کر رھا ھوں فوٹو بناو۔یہ فٹبال پرانا ضرور ھوگیا لیکن ابھی بھی پو صاحب کی نشانی میرے پاس ھے۔ لکھنے کو بہت سے واقعات ھیں ۔اسکے لئے بہت سا وقت چاھئیے۔ ایک شادی کی کوریج کے لئے منڈی بہاولدین ایا اس شادی کی تقریب میں ملاقات ھوئی اور بہت پیار سے ملے۔کریم الدین صاحب ۔کس اللہ تعالی کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین ثم امین جزاک اللہ فہیم احمد پم واہ کینٹ۔
👍 3· ❤️ 2
TU
Taqi Ud-Din Qamar· Epsom London
24 days ago
نظم بیاد کریم الدین احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکتائے روزگار تھا اک کریم الدین سرمایۂِ وقار تھا اک کریم الدین اپنی وفا سے رام کیا اک جہان کو پُھولوں کا ایک ہار تھا اک کریم الدین اس کا خلوص سردیوں کی ایک دھوپ تھا سب کے لئے ہی پیار تھا اک کریم الدین کتنا ہی مہربان تھا ، قُدرت کی شان تھا اِحسانِ کِردگار تھا اک کریم الدین حُسنِ عمل میں آپ ہی اپنی مثال تھا اک صُبحِ کامگار تھا اک کریم الدین رہتا تھا وقف ہر گھڑی ہر ایک کے لئے وہ شخص طرح دار تھا اک کریم الدین ماہر تھا اپنے فن میں ، وہ اک باکمال تھا ہر فن کا شہسوار تھا ، اک کریم الدین خدمت میں پیش پیش وہ رہتا تھا ہر گھڑی دیں کا وفا شعار تھا اک کریم الدین مِلتا تھا وہ ہر ایک سے چاہت ، خُلوص سے سُکھ چین اور قرار تھا اک کریم الدین وابستہ اس کی ذات سے ڈھیروں تھیں رونقیں محفل میں نَوبہار تھا اک کریم الدین اک صاحبِ جمال تھا اور خوش خصال بھی یاروں کا ایک یار تھا اک کریم الدین ————————————
👍 2· ❤️ 3

Leave a tribute

Tip: you can type directly, or attach a PDF — the document will be displayed inside the tribute. Urdu/Arabic text aligns right automatically.

Up to 5 files total. Images max 10 MB, videos max 50 MB.