Raja Nasrullah Khan پروفیسر راجہ نصراللہ خان ۔
پاکستان سے آمدہ اطلاع کے مطابق نامور قلمکار محقق ادیب اور تاریخ ساز مضامین سپرد قلم کرنے والے راجہ نصراللہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ انا للہ وانا الہہ راجعون ۔ راجہ صاحب جب سعودی عرب سے دیار وطن کو واپس لوٹے تو میں دیار غیر کو کوچ کرنے کی تیاری کر رہا تھا ۔ اس خاندان سے جس کا ہر فرد ملنسار ، مہمان نواز اور چھوٹے بڑے ، غریب امیر کو ایک جیسی عزت دینے میں لا ثانی کردار کا حامل ہے میرا رابطہ راجہ نصراللہ صاحب کے چھوٹے بھائی راجہ ناصر احمد کا نویں جماعت میں کلاس فیلو بننے پر ہوا ۔ یہ غالبا 1966 کی بات ہے ۔
اس بندھن کی بدولت میں نے ڈلوال ، دولمیال ، کلر کہار ، چوا سیدن شاہ کی سیر بھی کی ۔ کلر کہار اور چوا سیدن شاہ کے درمیان ایک سڑک تھی ۔ ڈلوال سڑک کے ایک طرف اور دوالمیال دوسری طرف تھا ۔ جمعہ کی ادائیگی کے لئے ڈلوال سے دوالمیال کا پیدل سفر ابھی کل کی بات لگتی ہے ۔ حضرت قاضی ملک عبدالرحمان صاحب کا خطبہ جمعہ اور پر شفقت ملاقات ۔ میجر آفتاب صاحب کی پر لطف گفتگو اور ہنسی اس سفر ڈلوال کی انمول یادوں میں شامل ہے ۔ سر شام خنک فضاء میں راجہ بیرم خان صاحب کی علاقہ کی تاریخ ساز گفتگو نے مجھ سے اجنبی ہونے کا تاثر چھین لیا ۔ راجہ عطاء اللہ خان صاحب جنگلوں کے سر قلم کرنے سے فرصت ملنے پر ربوہ اتے تو گول کمرہ میں لگنے والی مجلس میں ان کے پدرانہ شفقت بھرے رویہ سے مجھے بھی عزیز من ہونے کا احساس ملتا ۔ جیسا کہ میں نے کہا راجہ نصراللہ خان کی ربوہ آمد اور میری ربوہ سے روانگی تو چل میں آیا کے ماحول میں ہوئی ۔ ہمارے درمیان اس طور تفصیلی گفتگو تو نہ ہو سکی جو ان کے برادران اکبر کا خاصا رہا ۔ البتہ جب تک راجہ ناصر پاکستان میں رہے ان کی وساطت سے مجھے راجہ نصر اللہ خان سے نیاز حاصل رہا ۔ لیکن اس سے بڑھ کر ان کی قلمی خدمات نے میرے دل کو موہ لیا ۔ لوگ اپنے اور اپنے خاندان پر مضامین لکھتے ہیں ۔ راجہ نصراللہُ خان کا قلم ان قومی ہیروز کے لئے الفاظ کے موتی پروتا رہا جن کی خدمات سے عقیدہ کے اختلاف کی بناء پر آنکھیں چرائی گئیں ۔ راجہ صاحب مرحوم کی تالیف “ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں جماعت احمدیہ کا کردار “ ایک معرکہتہ الآرا ءُ تصنیف ہے ۔ ان کی محنت نے مستقبل کے مورخ کا کام آسان کر دیا ۔ ہر بشر نے خاک
میں مل جانا ہے لیکن قلمکار اور مورخ کی محنت اس کے نام کو زندہ رکھتی ہے ۔ راجہ نصراللہ خان بھی انہی میں سے تھے ۔
آج پوری دنیا میں احمدی ادب کے قدر دان سلطان القلم کی فوج کے اس سپاہی کے بچھڑ جانے پر غم زدہ ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ ان کی خدمت کو قبول کرے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا ہو
آمین ۔ والسلام سوگوار۔
عرفان احمد خان جرمنی
WEB / APP / AI DEVELOPMENT / AUTOMATION
Advertise here!
JUST TESTING
JUST TESTING
test 2
Memory Wall
Words and memories shared by our community.