Sultan Mahmood Anwar- مولانا سلطان محمود انور
محترم مولانا سلطان محمود انور صاحب کا شمار ان فدائی واقفین میں ہوتا ہے جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا جماعت کی خدمت اور امامِ وقت سے محبت تھا۔ مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب 11 مارچ 1932 کو کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری محمد دین اور والدہ کا نام رحمت بی بی تھا۔ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی پیدائش سے کچھ سال قبل ہی ان کے والد چوہدری محمد دین صاحب سلسلہ میں شامل ہوئےاور پھر خدا کا ایسا فضل ہوا کہ کہ اکلوتا بیٹا خدمت دین کے لئے وقف ہوگیا الحمد للہ!
مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب کی ابتدائی تعلیم کھاریاں میں ہی ہوئی۔ نویں جماعت کے بعد ان کی ضد اور شوق کی وجہ سے والدین نے ان کو زندگی وقف کرکے قادیان جانے کی اجازت دے دی۔ وہاں جامعہ میں داخل ہوگئے۔ دو سال کے بعد انڈیا پاکستان الگ ہوگئے تو پہلے لاہور اور پھر جامعہ احمدیہ چنیوٹ اور پھر احمد نگر شفٹ ہوگئے۔ وہیں سے 1952 میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور 1956 میں جامعہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔
مکرم مولانا سلطان محمود انورصاحب کی پہلی تقرری بطور مربی سلسلہ گجرات میں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بطور مربی خدمات انجام دیں۔ 1974 سے 1978 تک گھانا افریقہ میں کام کیا۔ 1982 سے 1983 تک سیکریٹری مجلس کارپرداز رہے۔ 1983 میں ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے اور 1998 تک پندرہ سال کا عرصہ اسی ذمہ داری پر کام کرنے کی توفیق پائی۔ پھر اس کے بعد ناظر خدمت درویشاں اور ناظر رشتہ ناطہ بھی رہے۔ 2018 میں بیماری کی وجہ سے 86 سال کی عمر میں ریٹائر ہوگئے۔ آپ کا جماعتی خدمات کا عرصہ 61 سال پر محیط ہے۔
مولانا سلطان محمود انور صاحب کو خدا تعالیٰ نے بہت خوبیوں اور غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ آپ کا انداز خطابت ایسا تھا کہ لوگ بہت شوق سے آپ کی تقاریر سننے کے لئے آتے تھے۔ ہمیشہ خوشگوار مزاج، بہترین حس مزاح، اور محبت اور عاجزی ایسی کہ ہر ملنے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ انہوں نے غیر احمدی احباب کو بے شمار تبلیغی مناظرے اور سوال و جواب کے مواقع فراہم کئے۔ ان کے انداز گفتگو، خطابت، اور علم سے مخالفین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔ آپ کے کم و بیش 200 کے قریب خطابات آڈیو، ویڈیو، یا تحریری طور پر موجود ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو ریکارڈ نہیں ہوسکے یا ضائع ہو گئے۔
مولانا سلطان محمود انور صاحب کی زندگی کا ایک نمایاں وصف ان کی خلافت سے بے پناہ محبت تھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خلافت کے جانثاروں میں سے تھے۔ ہر بات میں امامِ وقت کا مشورہ اور کامل اطاعت کا نمونہ تھے۔ یہ خلافت سے والہانہ عقیدت تھی کہ اپنے سے اوپر افسران کی بھی اسی طرح اطاعت کرتے کہ وہ امامِ وقت کے مقرر کردہ تھے۔
مولانا صاحب کو مربیان اور دفتر کے کارکن ایک شفیق استاد اور محبت کرنے والے بزرگ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سزا دینے سے گریز کرتے تھے اور محبت سے غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہے امیر اور صدر جماعت سے ان کا ہمیشہ تعاون کا سلوک رہا۔
گھر میں سلطان محمود انور صاحب ایک محبت کرنے والے شوہراور شفیق باپ تھے۔ بچوں کی تربیت کا خیال رہتا تھا اسلئے با وجود انتہائی مصروفیت کے بچوں کی نمازوں او تلاوت قرآن کریم پر بھی نظر رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ امامِ وقت کو خطوط لکھنے اور دعا کی درخواست کرنے کی بھی ہر وقت تاکید کرتے رہتے تھے۔ آپ نے اپنے چھوٹے بڑے ہر رشتہ دار اور سسرالی رشتہ داروں سے بھی ہمیشہ محبت کا رشتہ بنا کر رکھا۔ بہت مہمان نواز تھے۔ گھر میں اکثر لوگ اپنے مسائل لے کر آجاتے تھے، دن رات ہو یا کھانے یا آرام کا وقت ہو، اپنے ذاتی کاموں اور آرام کو نظر انداز کر کے ہر آنیوالے کی بات کو سنتے اور مدد کی کوشش کرتے تھے۔
مولانا صاحب ایک دعا گو اور عبادت گزار انسان تھے۔ با جماعت نماز کو ہی اصل نماز سمجھتے تھے۔ جب سفر پر ہوتے یا بیت الذکر نہ پہنچ سکتے تو گھر میں باجماعت نماز کا اہتمام کرواتے۔ گھر میں جب نوافل ادا کرتے تو ایسے محو ہوجاتے تھے کہ ارد گرد کے کسی شور شرابے کا ان کو احساس نہ ہوتا اسلئے کبھی کسی سے یہ شکایت نہیں کی کہ شور کی وجہ سے نماز خراب ہوگئی تھی۔
مولانا سلطان محمود انور صاحب کی وفات 11 جنوری 2021 کو 88 سال کی عمر میں ربوہ میں ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
آپ کی وفات پر حضورِ انور نے خطبہ جمعہ 22 جنوری 2021 میں آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا،
"1974 سے 1978 تک گھانا میں رہے، جب میں بھی وہاں تھا اور میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بے نفس ہو کے انہوں نے وہاں خدمت کی۔۔۔۔۔۔ان کو تبلیغ کرنے کا ملکہ، لوگوں سے بات چیت کا ملکہ، تقریر کا ملکہ بھی بہت تھا۔ ان کے متعدد ایسے واقعات ہیں کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اور علماء سے ان کی اختلافی مسائل پر گفتگو ہوتی اور بڑے ٹھوس اور علمی جواب دیتے۔ بڑے اچھے مقرر تھے جیسا کہ میں نے کہا سامعین کو سننے والوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ مربیان جو ان کے ساتھ کام کرنے والے ہیں وہ بھی یہی لکھتے ہیں کہ ہمیں ساتھ لے کر چلنے والےتھے۔ ہر ایک نے یہی لکھا کہ انتہائی شفقت کا سلوک فرماتے تھے اور خود بھی تہجد اور عبادت کرنے والے اور لوگوں کو، مربیان کو بھی خاص طور پر تہجد اور عبادت کی تلقین کیا کرتے تھے۔ ان کا خلافت سے وفا اور اطاعت کا ایک غیر معمولی معیار تھا۔۔۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے " (آمین)
WEB / APP / AI DEVELOPMENT / AUTOMATION
Advertise here!
JUST TESTING
JUST TESTING
test 2
Memory Wall
Words and memories shared by our community.